ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / عالمی خبریں / یونان سے مہاجرین کو واپس ترکی بھیجنے کا سلسلہ پھر سے شروع

یونان سے مہاجرین کو واپس ترکی بھیجنے کا سلسلہ پھر سے شروع

Sun, 09 Apr 2017 18:20:10    S.O. News Service

برسلز9اپریل(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)یورپی یونین اورترکی کے مابین طے شدہ مہاجرین سے متعلق معاہدے کے تحت یونان نے پناہ کے متلاشی افراد کو واپس ترکی بھیجنے کا سلسلہ پھر سے شروع کر دیا ہے۔ ملک بدر کیے جانے والوں میں زیادہ تعداد پاکستانی شہریوں کی ہے۔جرمن خبر رساں ادارے ڈی پی اے کی یونانی دارالحکومت ایتھنز سے ملنے والی رپورٹوں کے مطابق یونانی جزیروں سے انچاس تارکینِ وطن کوواپس ترکی بھیجا گیا۔ ترکی واپس بھیجے جانے والے تارکین وطن کی زیادہ تعداد پاکستانی شہریوں کی تھی تاہم کچھ کا تعلق الجزائر اور بنگلہ دیش سے تھا جب کہ ایک فلسطینی تارکِ وطن کو بھی یونان سے واپس ترکی بھیجاگیا۔ڈی پی اے کی رپورٹوں کے مطابق ان تمام تارکین وطن کی یونان میں جمع کرائی گئیں پناہ کی درخواستیں یاتومستردہوچکی تھیں،یاپھرانہوں نے اپنی درخواستیں واپس لے لی تھیں۔ چھ اپریل بروز جمعرات ان انچاس افراد کو یورپی سرحدوں کے نگران ادارے فرنٹیکس کی نگرانی میں ایک بحری جہاز کے ذریعے ترکی کے ساحلی شہر ڈیکیلی پہنچا دیا گیا۔رپورٹوں کے مطابق یورپی یونین اور ترکی کے مابین طے شدہ مہاجرین کی ڈیل کے تحت ترکی سے غیر قانونی طور پر یونان آنے والے پناہ کے متلاشی افراد کو یونان سے ملک بدر کر کے واپس ان کے اپنے آبائی وطنوں کی جانب بھیجے جانے کی بجائے انہیں ترکی بھیج دیا جاتا ہے۔ گزشتہ برس طے ہونے والے اس معاہدے پر عمل درآمد کی رفتار تاہم کافی سست رہی ہے۔ قریب ایک برس کے دوران 933 تارکین وطن کو ہی یونان سے واپس ترکی بھیجا جا سکا ہے۔بحیرہ ایجیئن کو غیر قانونی طور پر عبور کر کے ترکی سے یونان پہنچنے والے تارکین وطن یونانی جزیروں پر قائم استقبالیہ مراکز میں سیاسی پناہ کی درخواستیں جمع کراتے ہیں۔یونان میں سیاسی پناہ کی درخواستوں پر فیصلے کیے جانے کا عمل بھی کافی حد تک سْست روی کا شکار ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق صرف یونانی جزیروں پر چودہ ہزار سے زائد مہاجرین اور تارکین وطن پھنسے ہوئے ہیں، جن کی سیاسی پناہ کی درخواستوں پر ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں کیا جا سکا۔
 


Share: